تمھارے دل میں جو موجزن تھا،جو بیکراں تھا،وہ میں نہیں تھا
Poet: سلیم سرمد By: Saleem Sarmad, Dera Ghazi Khanتمھارے دل میں جو موجزن تھا،جو بیکراں تھا،وہ میں نہیں تھا
وہ عشق و الفت،وہ بد حواسی، وہ سب زیاں تھا،وہ میں نہیں تھا
میں ابن _آدم ہوں میری خصلت گناہ بھی ہے ثواب بھی ہے
تمھارے دل میں جو اک فرشتہ کبھی نہاں تھا،وہ میں نہیں تھا
یہ علم و حکمت،یہ شعر و شاعر،مری سمجھ سے یہ بالا تر ہیں
تمھیں متاثر کیا تھا جس نے محض گماں تھا، وہ میں نہیں تھا
وہ خاکسر کوئی اور ہوگا،جو بے سبب ہی بھٹک رہا تھا
تمھارے آگے تمھارے پیچھے جہاں جہاں تھا، وہ میں نہیں تھا
وہ میری صحبت کا ہی اثر تھا کہ قیس مجنون و مضطرب تھا
وہ عشق _ لیلی جو داستاں تھی، مرا بیاں تھا، وہ میں نہیں تھا
وہ یاد_ ماضی کا ایک حصہ تمھارے دل سے اتر چکا جو
سمے کی 'سرمد' وہ دھول تھی یا مرا دھونواں تھا، وہ میں نہیں تھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






