میں اپنے اشک پلکوں سے گرا دیتا تو اچھا تھا
Poet: سلیم سرمد By: Saleem Sarmad, Dera Ghazi Khanمیں اپنے اشک پلکوں سے گرا دیتا تو اچھا تھا
میں اس دریا کو دھرتی پہ بہا دیتا تو اچھا تھا
رہوں میں کب تلک اپنے بدن کے چیتھڑے سیتا
میں اپنا سر ہی تن سے کر جدا دیتا تو اچھا تھا
میں اپنی نا توانی بھی غموں میں بانٹ دیتا تو
میں نسبت ماں کی بچوں کو سلا دیتا تو اچھا تھا
میں یہ بھی تو نہ کر پایا میں اس کو نہ بھلا پایا
وہ میرے خط مرے فوٹو جلا دیتا تو اچھا تھا
نہ کر پایا میں اظہار_محبت برملا ان سے
اسے اپنی غزل ہی میں سنا دیتا تو اچھا تھا
تمھارے ہاتھ پر میں نے دیا تھا رات اک بوسہ
میں اس سے معذرت کرتا بتا دیتا تو اچھا تھا
گھرا رہتا ہے سرمد جگنوؤں میں رات بھر لیکن
وہ اپنی بند مٹھی بھی دکھا دیتا تو اچھا تھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






