تمھارے پیار میں کہتا ہوں گیت اور غزلیں
Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanتمھارے پیار میں کہتا ہوں گیت اور غزلیں
تمھیں میں پا لوں یہی ایک میرا ارماں ہے
میں چاہتا ہوں تمھیں زندگی سے بھی زیادہ
بنا تمھارے کہاں زیست میری آساں ہے
تمھاری آنکھوں میں الفت کو دیکھتا ہوں میں
تو ایسا لگتا ہے جینے کا کوئی مقصد ہے
صدا تمھاری یونہی گیت بن کے آتی رہے
تو پھر جہان میں رہنے کا کوئی مقصد ہے
تمھاری زلفوں کی خوشبو کو بھول سکتا نہیں
تمھاری آنکھوں کی ہر لمحہ یاد آتی ہے
حسیں لبوں کی حلاوت سی ہے مٹھاس کہاں
تمھاری سانسوں کی گرمی بہت ستاتی ہے
تمھارے پیار میں کہتا ہوں گیت اور غزلیں
تمھیں میں پا لوں یہی ایک میرا ارماں ہے
میں چاہتا ہوں تمھیں زندگی سے بھی زیادہ
بنا تمھارے کہاں زیست میری آساں ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






