تمہارا نام ہی کافی ہے فسانے کے لئے
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillحسن کو حسن کا شاہکار دکھانے کیلئے
چلے ہو چاند کی کرنوں کو ستانے کیئے
ہاتھ میں آئے تو لفظوں کے سوا کچھ نہ ملا
بہت بیتاب تھا میں خواب چرانے کیلئے
اس میں کیا زخم کی تفصیل کو بیاں کرنا
تمہارا نام ہی کافی ہے فسانے کیلئے
میں کیسے مان لوں اسکو فشار خوں کا سبب
کہ میرا دل ہے فقط اشک چھپانے کیلئے
رات کی خوش گمانیوں سے گزرتا ہے خیال
ستارے اترے تیرا روپ سجانے کیلئے
میرے احساس کی سرگوشیاں ہی کافی ہیں
تیری آنکھوں میں نئے دیپ جلانے کیلئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






