تمہارے منتظر ہیں
Poet: Shama By: Shama Chaudhry, walesتمہارے منتظر ہیں ہم تجھی کو ڈھونڈتے ہیں ہم
تصور کر کے آنکھوں کو نشے میں جھومتے ہیں ہم
تخیل کی اڑانوں میں اگرچہ مست رہتے ہیں
حقیقت میں تو خوابوں کی زمیں کو پوجتے ہیں ہم
سبب اُس کے دیوانے پن کا نہ دنیا سمجھ پائی
خیال و خواب میں ہر لمحہ جس کو سوچتے ہیں ہم
ترانے درد کے ہوں یا بہشتی سے فسانے ہوں
تمہارے نام ہی منسوب کرنا کرنا چاہتے ہیں ہم
بہاروں کے حسیں سائے جلائیں جب کبھی ہم کو
شگفتہ پھول سا چہرہ خلا میں دیکھتے ہیں ہم
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






