تمہیں چاہتے سال گزر گیا
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaتیرے آنے کی ُامید میں دیپ جلاتے سال گزر گیا
آنکھوں میں خواب سجاتے سال گزر گیا
کچھ خوابوں کی تعبر ڈھونتے سال گزر گیا
وفاؤں کا رشتہ نبھاتے سال گزر گیا
خطاء پے خطاء کرتے سال گزر گیا
محبتوں کی انتہا کرتے سال گزر گیا
تم سے پیار کرتے سال گزر گیا
ہمیں اظہار کرتے سال گزر گیا
روٹھتے مناتے سال گزر گیا
چھپتے چھپاتے سال گزر گیا
ہجر میں آنسؤں بہاتے سال گزر گیا
تلخوں سے دل جلاتے سال گزر گیا
ہو گئے ہو بہت دور ہم سے مگر
آج تمہیں چاہتے سال گزر گیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






