تمہیں کھونا نہیں چاہتا تمہیں پانے کی خواہش ہے
Poet: Saqlain Shah Lawrencepuri By: Saqlain , Attockتمہیں کھونا نہیں چاہتا تمہیں پانے کی خواہش ہے
تم رک نہیں سکتے تمہیں جانے کی خواہش ہے
فقط تم ہو چکے میرے، فقط میں ہو چکا تیرا
نہ تم مل سکو مجھکو یہ زمانے کی خواہش ہے
تمھاری آنکھیں نم ہیں کیوں بھلا کیسی پریشانی
دھڑکتا ہے کیوں دل میرا پھر آزمانے کی خواہش ہے
دریا ہے دل میرا چھپا کے راز رکھتا ہوں
توڑا تھا جو دل میرا کیا پھر سمانے کی خواہش ہے
ثقلین کس رشتے سے روکو گے دیار غیر جانے سے
جانا اس کا ٹہرا ہے تمہیں پچھتانے کی خواہش ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






