تم اور میں ایک ہو جائے
Poet: مفیظ رسول By: مفیظ رسول, Rawalpindiتم اور میں ایک ہو جائے
مرے ہمدم ایسا کوئی استخارا کر
تم بن ہار سنگھار بھی اچھے لگتے ہو
اپنا روپ نہ اتنا نکھارا کر
میں تیری صدا پہ ننگے پاؤں ہی چلا آؤ ں گا
بس تو فرقت کے لمحوں میں مجھے پکارا کر
تمام مسائل کا حل ہے اس جہاں میں
تو اس مسئلہ کا بھی کوئی نہ کوئی چارا کر
کیوں پھرتا رہتا ہے تو غیروں کی محافل میں
مری جاں! تو وقت میرے ساتھ گزارا کر
مجھے تیرے سوا کوئی نہیں اچھا لگتا
کسی روز چشم تصور میں اس احساس کا نظارا کر
مفیض کسی روز وصل ہو اور ہم امر ہو جائے
جان جاناں میرے گلے لگ کہ کم خسارا کر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






