تم سے وعدہ نہیں پر انتظار رہتا ہے
Poet: Imran Raza By: Syed Imran Raza, sargodhaتم سے وعدہ نہیں پر انتظار رہتا ہے
میری آنکھوں میں سدا انتطار رہتا ہے
دل یہی خیال صبح و شام رہتا ہے
میرے لبوں پر سدا ایک نام رہتا ہے
کبھی تنہائی میں تنہا نہیں رہنے دیتا
میرا ہمراز میرے ساتھ ساتھ رہتا ہے
چھپانا چاہیں بھی تو ہم چھپا نہیں سکتے
کسی کا عکس نگاہوں میں سرعام رہتا ہے
میرے لبوں کوئی جز تمہارے بات نہیں
میری زباں پہ تیرا ذکر بار بار رہتا ہے
اپنی صورت کا کوئی رنگ مجھے یاد نہیں
تمہارا عکس آئینے میں نمودار رہتا ہے
نگاہوں کے بھنور میں ڈوب کر ابھرتے رہنا
دل پر شوق کا بس یہ ہی کاروبار رہتا ہے
لفظوں میں حال دل بیاں کرنا سہل نہیں
کاغذ قلم کے وار بار بار سہتا ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






