تم چاہتے ہو ہم نہ آہ کریں
Poet: By: Peerzada Arshad Ali Kulzum, harrisburg pa usaتم چاہتے ہو ہم نہ آہ کریں
بتاو کب تک ہم وعدہ نباہ کریں
ہمیں ہر گام پر بدنام کیے جاتے
اور خود جو چاہیں سفید یا سیاہ کریں
اگر ہم اس کی محفل سے اٹھ گئے پھر دیکھنا
مجال کیا میرے سواہ کوئی واہ کریں
چاہتے ہیں ان کا آنچل اک بار تھام لیں
پر کیا کریں کیسے ان کو رسواہ کریں
چمن نے ہزار قسم کے پھول کھیلائے ہیں ہر سو
جانے وہ اک پھول کی تعارف کیوں خواہ مخواہ کریں
بیھٹے ہیں سیکڑوں امیدیں لیے ہوئے
کاش ارشد وہ میری طرف اک نگاہ کریں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







