رندوں کو نہ روک ساقی مئخانہ بدنام ہوتا ہے
Poet: Santosh Kumar Gomani By: Santosh Kumar Gomani, Tharparkar @ Mithiرندوں کو نہ روک ساقی مئخانہ بدنام ہوتا ہے
پی کر چھلک جانے سے پیمانہ بدنام ہوتا ہے
ضبط غم نہ ہو تو مہ کدا مہ کشی کے ساتھ لیں
تنہائی کو دکھ بانٹنے سے بیگانہ بدنام ہوتا ہے
دنیا رنج نشیں ہوگئی مجرے پہ مہرباں
قصور کوٹھے والے کا نہیں یہ زمانہ بدنام ہوتا ہے
حال ہی کے تاسف تجھے کیا کم لگتے ہیں جو
یوں کہہ دیا ہر بار کہ وقت پرانا بدنام ہوتا ہے
اس کی آنکھوں میں چھلکیاں تھمی سی لگتی ہیں
کوئی شاید سوچ بیٹھا کہ پلانا بدنام ہوتا ہے
کون ہے جو محبت کی تجلی سے گزر گیا لیکن
دلکشی کے عالم میں یہ دیوانہ بدنام ہوتا ہے
او سنگتراش! تیری ہنرکاری کی عظمت دیکھ
ایک تراشے پتھر سے بت خانہ بدنام ہوتا ہے
اس نے اک خوشی کے بدلے زندگی مانگی تھی
جان اس لیے دی کہ جرمانہ بدنام ہوتا ہے
More Love / Romantic Poetry
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے روٹھ جانے کی ہی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
Bina
من میں تمھیں بسا کے من میں تمھیں بسا کے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
Bina






