تم کیا جدا ہوئے کہ تمنا جدا ہوئی
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillقسمت کی ہر لکیر سمے سے خفا ہوئی
تم کیا جدا ہوئے کہ تمنا جدا ہوئی
اٹھے جو ہاتھ لب پہ تیرا نام ہی آیا
پھر اسکے بعد کوئی نہ مجھ سے دعا ہوئی
سنتے ہیں وہاں شوق کا دریا امڈ پڑا
میری نماز عشق جہاں پر ادا ہوئی
زور جنوں نے تھام کے رکھا لہر کا ساتھ
کشتی کنار گاہ کی طرف بار ہا ہوئی
کچھ اس طرح سے ٹوٹا طلسم ردائے حسن
گویا فریب رنگ سے تتلی رہا ہوئی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






