تو سمندر، کوئی دھارا تو نہیں ہو سکتا
Poet: zain shakeel By: zain shakeel, gujratتو سمندر، کوئی دھارا تو نہیں ہو سکتا
یہ محبت ہے کنارا تو نہیں ہو سکتا
دور ہونے سے محبت تو نہیں مر سکتی
پاس ہو کر یہ اشارہ تو نہیں ہو سکتا
گرد چہرے پہ مسافت کی بھی ہو سکتی ہے
اب میں ہر کھیل میں ہارا تو نہیں ہو سکتا
میرے جیتے بھی تمہارا جو نہیں ہے تو سنو
میرے مرنے پہ تمہارا تو نہیں ہو سکتا
تو نے اپنا تو لیے شہر کے آداب مگر
یوں میری جان گزارا تو نہیں ہو سکتا
بس یہی بات سمجھنے سے ہے قاصر مرا دل
ہر کوئی شخص ہمارا تو نہیں ہو سکتا
ایک لمحے میں تجھے زین اجاڑا جس نے
اس کا تو جان سے پیارا تو نہیں ہو سکتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






