تڑپ سی جاتی ہے اس کی طبیعت
Poet: Asif Shaaki By: Asif Shaaki, Karachiتڑپ سی جاتی ہے اس کی طبیعت، جو نہ وہ مجھ کو اک روز دیکھے
مشورہ مفت دیتے ہیں اس کو طبیب،لازم ہے کہ وہ مجھ کو روز روز دیکھے
جو دوست اس کو تنگ کرتے ، جو سہیلیاں چھیڑتی رہتی تھیں اسے
حالت اک دن اپنی بھی دیکھ اس نے مجھ سے بنا بات کیے رہ کے
“ احتیاط بہیترے علاج ہے“ جو ، اس کو یہ اب ہوا ہے معلوم
اپنی سانس بحال رکھنے واسطے وہ اک پیغام تو میری اور ضرور پھینکے
کسی کی جدائی میں جو دن رات بکھر جاتے ہیں پل پل سلگ جاتا ہے
اب یہ ضروری ہو گیا کہ عاشق کی سانسیں ٹوٹیں محبوب کی گھڑیاں مہکے
ناکام محبت ہی سہی، نا ممکن ملاپ کے مفروضے ہی سہی
لیکن کبھی محسوس کرو شاکی کتنی ملتی ہے خوشی کسی کو خوشی دے کے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






