بھت عزیز ھیں آنکھیں میری اسے لیکن
Poet: M.Z By: M.Z, karachiبنا رھی ھے تیری یاد مجھ کو سلک گوھر
پروگئی میری آنکھوں میں آج شبنم پھر
وہ نرم لھجے میں کچھ کہہ رھا ھے پھر مجھ سے
چرا ھے پیار کے کومل سروں میں مدھم پھر
تجھے مناؤں یا اپنی انا کی بات سنوں
الجھا رھا ھے میرے فیصلوں کا ریشم پھر
نا اس کی بات میں سمجھوں نا وہ میری نظریں
معاملات زبان ھو چلے ھیں مبہم پھر
یہ آنے والا نا دکھ بھی اس کے سر ھی گیا
چٹخ گیا میری انگشتری کا نیلم پھر
وہ ایک لمحہ جب سارے رنگ ایک ھوئے
کسی بہار نے دیکھا نا ایسا سنگم پھر
بھت عزیز ھیں آنکھیں میری اسے لیکن
وہ جاتے جاتے انھیں کر گیا ھے پرنم پھر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






