تھا حال دل نہ رہ پل شب گذشتہ میں
Poet: muhammad tayyab awais khakh By: MUHAMMAD TAYYAB AWAIS KHAKH, OKARAتھا حال دل نہ رہ پل شب گزشتہ میں
مچائی دل نے ہلچل شب گزشتہ میں
تھا نیند کا حال آئے یا نہ آئے اب
کہیں نہ آئے اب کل شب گزشتہ میں
پکارے مو ت مجھ کو حال آ ہ! کیسا
آ ثا ر مو ت کہں چل شب گزشتہ میں
کہاں آ کے میں ٹو ٹا تھا وہ کون آہ! آہ!
وصال کا نہ ملے حل شب گزشتہ میں
بکھر گیا خاکؔ طیبؔ بن تیرے ہم دم
میرا ہر پل تھا گیا جل شب گزشتہ میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






