اولاد نے ہی ماں باپ کا ڈھنگ بدل ڈالا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, pakistanنئے زمانے نے رشتوں کا رنگ بدل ڈالا
اولاد نے ہی ماں باپ کا ڈھنگ بدل ڈالا
جو ہاتھ تھام کے چلنا سکھایا کرتے تھے
انہی کے سامنے لہجہ بھی تنگ بدل ڈالا
ادب کی باتیں کتابوں میں رہ گئیں شاید
گھروں میں بچوں نے ہر اک ڈھنگ بدل ڈالا
نہ پوچھ حال کبھی، نہ خیال کوئی رکھا
محبتوں کو بھی جیسے اک جنگ بدل ڈالا
وہ ماں جو رات بھر جاگے تو نیند آ جائے
اسی کے سامنے بیٹے نے رنگ بدل ڈالا
وہ باپ جس نے پسینہ بہا کے گھر رکھا
اسی پہ طعنہ دیا، سارا ڈھنگ بدل ڈالا
"وشمہ" یہ وقت بھی کیا عجب امتحان لایا
اولاد نے ہی رشتوں کا سنگ بدل ڈالا
More Love / Romantic Poetry






