تھا میں عام سا ذرا اِس زمین کی خاک کا
Poet: NEHAL GILL By: NEHAL, Gujranwalaتھا میں عام سا ذرا اِس زمین کی خاک کا
تُو نے سینے سے لگا کے سونا بنا دیا
کیسے اُتاروں گا قرض ترے احسانوں کے
بے جان بُت کو جینا سکھا دی
میں کھویا مسافر جو جگنو کی لو میں رستہ تلاش کرتا تھا
تُو نے بنا کے مہتاب مجھے فلک سے بیٹھا دی
اور بھی آئے کہی جو دعوے کرتے تھے محبت کے
مگر تری محبت نے مان مرا بڑا دی
دوپہر کی دھوپ میں جلا ہوں میں ہو کے بے بس
کرکے سایہ زلفوں کا تُو نے مجھے سُلا دی
برساتوں نے جلایا ہے مجھے اور پھولوں نے زخم دیئے
اب لگتے ہیں کانٹے بھی گُل جادو کیسا چلا دی
مری ساری زندگی کی عبادتوں کا خدا نے
اب جا کے تری صورت مجھے سلہ دی
ہے تری وفائوں کا اثر ورنہ مجھ میں وہ بات کہاں
لفظوں کو سجانے کا ہنر نہال کو سکھا دی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






