اے نازنیں ہے وقت ابھی سوچ لے ذرا

Poet: dr.zahid sheikh By: dr.zahid sheikh, lahore pakistan

مانا کہ التفات بھری ہے تری نگاہ
تری مرمریں سی بانہوں مل جائے گی پناہ
پر حر ز جاں بنانا مجھے ٹھیک ہے کہاں
پر خار ہے سدا سے مری زندگی کی راہ

اے نازنیں ہے وقت ابھی سوچ لے ذرا

بے خانماں ہوں سر پہ کوئ سائباں نہیں
پنچھی ہوں جس کے پاس کوئ آشیاں نہیں
قائل ہوں میں وفا کا مگر یہ جہان میں
کار زبوں ہے اس کا کوئ قدر داں نہیں

اے نازنیں ہے وقت ابھی سوچ لے ذرا

اس سیم و زر کے دور میں تقصیر ہے وفا
اندوہ گین رات کی تفسیر ہے وفا
تضحیک تیرے پیار کی مقصد نہیں مرا
پر سچ یہ ہے جہان میں تزویر ہے وفا

اے نازنیں ہے وقت ابھی سوچ لے ذرا

بیزار تجھ سے ، تیری رفاقت سے تو نہیں
برگشتہ میرا دل تری الفت سے تو نہیں
لیکن حزیں ہے زیست مری اور تجھ کو بھی
مجھ سے ہے پیار میری فلا کت سے تو نہیں

اے نازنیں ہے وقت ابھی سوچ لے ذرا

اس تیرگی میں تیرے تبسم کی ضو سہی
میری خاموشیوں سے تری گفتگو سہی
کل میری مفلسی سے وفا توڑ دے گی دم
گو آج تجھ کو میری بہت آرزو سہی

اے نازنیں ہے وقت ابھی سوچ لے ذرا

Rate it:
Views: 450
25 Oct, 2012
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL