تھک جاؤں میں تو مجھ کو محبت کی چھاؤں دے
Poet: hussain nisar By: hussain nisar, karachiدشتِ جنوں میں رختِ سفر چاہیئے مجھے
تاریک رہ ہے نورِ نظر چاہیئے مجھے
یارب پکارنے پہ وہ آجائے میرے پاس
آہوں میں اس طرح کا اثر چاہیئے مجھے
پاؤں میں آبلہ ہو یا آنکھوں میں گرد ہو
ہر حال میں وہ یار مگر چاہیئے مجھے
کٹتی نہیں ہے دکھ کے اندھیروں میں زندگی
مجھ سا ہی کوئی خاک بسر چاہیئے مجھے
اک اس کا التفات ہی کافی ہے دوستو
کب یہ کہا کہ چاند نگر چا ہیئے مجھے
تھک جاؤں میں تو مجھ کو محبت کی چھاؤں دے
راہِ وفا میں ایسا شجر چا ہیئے مجھے
جس میں نثار یار کی قربت کا لمس ہو
سارے جہاں میں بس وہی گھر چا ہیئے مجھے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






