تیرا سولھا سنگھار
Poet: shehzad butt shaz By: shehzad butt shaz, karachiتیرے حسن کا کمال اچھا لگتا ہے
تیری آنکھ کا نشہ اچھا لگتا ہے
تیرا گلابی گال اچھا لگتا ہے
تیرا سولھا سنگھار اچھا لگتا ہے
تیرا آنکھوں پہ نقاب اچھا لگتا ہے
تیرا مجھ سے تکرار اچھا لگتا ہے
تیرا محبت کا اظہاراچھا لگتا ہے
تیری چاہت کا انداز اچھا لگتا ہے
تیرے ملن کا خیال اچھا لگتا ہے
تیرے ہونٹوں کا سوال اچھا لگتا ہے
تیرا چلتے بوئے بل کھانا اچھا لگتا ہے
تیرا بولتے بوئے گھبرانا اچھا لگتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






