تو بھی ہے

Poet: shehzad butt shaz By: shehzad butt shaz, karachi

سچ ہے یہاں تو جھوٹ بھی ہے
کھرا ہے یہاں تو کھوٹ بھی ہے

خوشی ہے یہاں تو اداسی بھی ہے
ہجوم ہے یہاں تو تنہائی بھی ہے

چاند ہے یہاں تو تاریکی بھی ہے
سورج ہے یہاں تو تپش بھی ہے

پھول ہے یہاں تو کانٹا بھی ہے
بھنور ہے یہاں تو کنارہ بھی ہے

دن ہے یہاں تو رات بھی ہے
اندھیرا ہے یہاں تو اجالا بھی ہے

پہاڑ ہے یہاں تو ہریالی بھی ہے
سبزہ ہے یہاں تو خشک سالی بھی ہے

موت ہے یہاں تو زندگی بھی ہے
سمندر ہے یہاں تو ساحل بھی ہے

خزاں ہے یہاں تو بہار بھی ہے
نفرت ہے یہاں تو پیار بھی ہے

حسن ہے یہاں تو حسین بھی ہے
آسمان ہے یہاں تو زمین بھی ہے

وفا ہے یہاں تو بے وفائی بھی ہے
ملن ہے یہاں تو جدائی بھی ہے

اقرار ہے یہاں تو انکار بھی ہے
میں ہوں یہاں تو تو بھی ہے
 

Rate it:
Views: 612
22 Mar, 2008
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL