تو بھی ہے
Poet: shehzad butt shaz By: shehzad butt shaz, karachiسچ ہے یہاں تو جھوٹ بھی ہے
کھرا ہے یہاں تو کھوٹ بھی ہے
خوشی ہے یہاں تو اداسی بھی ہے
ہجوم ہے یہاں تو تنہائی بھی ہے
چاند ہے یہاں تو تاریکی بھی ہے
سورج ہے یہاں تو تپش بھی ہے
پھول ہے یہاں تو کانٹا بھی ہے
بھنور ہے یہاں تو کنارہ بھی ہے
دن ہے یہاں تو رات بھی ہے
اندھیرا ہے یہاں تو اجالا بھی ہے
پہاڑ ہے یہاں تو ہریالی بھی ہے
سبزہ ہے یہاں تو خشک سالی بھی ہے
موت ہے یہاں تو زندگی بھی ہے
سمندر ہے یہاں تو ساحل بھی ہے
خزاں ہے یہاں تو بہار بھی ہے
نفرت ہے یہاں تو پیار بھی ہے
حسن ہے یہاں تو حسین بھی ہے
آسمان ہے یہاں تو زمین بھی ہے
وفا ہے یہاں تو بے وفائی بھی ہے
ملن ہے یہاں تو جدائی بھی ہے
اقرار ہے یہاں تو انکار بھی ہے
میں ہوں یہاں تو تو بھی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






