تیرا چہرہ نیند سجاتا ھے
Poet: SHABEEB HASHMI By: SHABEEB HASHMI, Al-Khobarاک خواب مسلسل آتا ھے
تیرا چہرہ نیند سجاتا ھے
پھولوں پہ بھنورے کی مانند
میرے دل کو وہ بہلاتا ھے
آنکھوں کے سرمئی رنگوں سے
میرے من کو راہ دکھاتا ھے
اپنے لمس کی بھینی خشبؤ سے
میرے احساس کو وہ مہکاتا ھے
دھڑکن کے سر اور سرگم پے
وہ مجھ کو گیت سناتا ھے
چاند سے لیکر حسن سوغات
وہ مجھ کو ھر پل بہلاتا ھے
اپنی سانسوں کی دھیمی آنچ پہ
میرے تن کو وہ سلگاتا ھے
اک خواب مسلسل آتا ھے
تیرا چہرہ نیند سجاتا ھے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






