ہم چاند سے چاندنی راتوں میں جب ذکر تمھارا کرتے ہیں
Poet: dr.zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanہم چاند سے چاندنی راتوں میں جب ذکر تمھارا کرتے ہیں
طوفان جو دل میں رہتے ہیں آنکھوں میں اتارا کرتے ہیں
اک چیخ سی رہتی ہے دل میں اور لب ہیں کہ پتھر کے ٹکڑے
خاموش صداؤں میں تیرا ہی نام پکارا کرتے ہیں
ناکامیء الفت کے سارے غم اپنے ہی حصے میں آئے
ہم بال بکھیرے پھرتے ہیں وہ زلف سنوارا کرتے ہیں
ملتے ہیں زمانے میں اکثر غم دے کے ہمیں ہنسنے والے
کوئی تو بتا دے ان کا پتا جو درد کا چارہ کرتے ہیں
آہوں کی حقیقت ہے کتنی ہم کو ہے خبر ، ہم سے پوچھو
احسا س کی اجڑی بستی میں رو رو کے گزارا کرتے ہیں
غیرں سے شکایت کیا کرتے جب اپنے بھی نکلے بیگانے
کب خاک بسر ہم سے لوگوں کو لوگ گوارا کرتے ہیں
کس بات کی الجھن ہے تم کو ، کس بات کی پردہ داری ہے
چہرے سے تمھارے ٹوٹے ہوئے خوابوں کا نظارہ کرتے ہیں
اظہار کے سو سو طور ہیں گر اظہار کوئی کرنا چاہے
زاہد جو زباں سے کہہ نہ سکو آنکھوں سے اشارہ کرتے ہیں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






