ہم چاند سے چاندنی راتوں میں جب ذکر تمھارا کرتے ہیں
Poet: dr.zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanہم چاند سے چاندنی راتوں میں جب ذکر تمھارا کرتے ہیں
طوفان جو دل میں رہتے ہیں آنکھوں میں اتارا کرتے ہیں
اک چیخ سی رہتی ہے دل میں اور لب ہیں کہ پتھر کے ٹکڑے
خاموش صداؤں میں تیرا ہی نام پکارا کرتے ہیں
ناکامیء الفت کے سارے غم اپنے ہی حصے میں آئے
ہم بال بکھیرے پھرتے ہیں وہ زلف سنوارا کرتے ہیں
ملتے ہیں زمانے میں اکثر غم دے کے ہمیں ہنسنے والے
کوئی تو بتا دے ان کا پتا جو درد کا چارہ کرتے ہیں
آہوں کی حقیقت ہے کتنی ہم کو ہے خبر ، ہم سے پوچھو
احسا س کی اجڑی بستی میں رو رو کے گزارا کرتے ہیں
غیرں سے شکایت کیا کرتے جب اپنے بھی نکلے بیگانے
کب خاک بسر ہم سے لوگوں کو لوگ گوارا کرتے ہیں
کس بات کی الجھن ہے تم کو ، کس بات کی پردہ داری ہے
چہرے سے تمھارے ٹوٹے ہوئے خوابوں کا نظارہ کرتے ہیں
اظہار کے سو سو طور ہیں گر اظہار کوئی کرنا چاہے
زاہد جو زباں سے کہہ نہ سکو آنکھوں سے اشارہ کرتے ہیں
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام






