تیری اُمید ہے سزا، مجھے کیا
Poet: جنید عطاری By: جنید عطاری, چکوالتیری اُمید ہے سزا، مجھے کیا
تُو چلا جا کبھی نہ آ، مجھے کیا
تیرا ہونا نہ ہونا دھوکہ ہے
سُن! حقیقت بھی ہو گیا، مجھے کیا
خود سے میری ذرا نہیں بنتی
جانیے کیا ہے ماجرا، مجھے کیا
قیس کے بعد دشتِ غربت میں
ہے کوئی مجھ سا سر پھرا، مجھے کیا
قصۂ خضر سن کے رُومی سے
اب کروں کس کو رہ نما، مجھے کیا
دل لگائے کہاں لگا اُس سے
تھا رقیبوں کا آشنا، مجھے کیا
روش اپنی سدا کی بیری ہے
منہ ترا خاک ناصحا، مجھے کیا
میں تو مجھ تک کبھی نہیں آیا
برہنہ پا تُو آ چکا، مجھے کیا
تُو جو یکبارگی جلا دل سے
دم میں بے ساختہ بُجھا، مجھے کیا
مر رہیں خواب سب کی آنکھوں کے
آسماں پر جلے دِیا، مجھے کیا
کیا اجازت ہے تلخ گوئی کی؟
پھر بھلے ہوں سبھی خفا، مجھے کیا
کچھ وفا نے تجھے دیا بھی کیا
خود فریبی کے مبتلا، مجھے کیا
کون ہوں میں مجھے نہیں معلوم
شخص یا اُس سے ماوراء، مجھے کیا
یہ مری عمر رائیگانی ہے
ہو ہر اک نفس کا بھلا، مجھے کیا
جل گئے ہیں سبھی دلی ارمان
دوزخ ِ غم بھڑک اُٹھا، مجھے کیا
ابھی تیشے میں میرے دم ہے بہت
تھک کے فرہاد گھر چلا، مجھے کیا
ٹل گئی تُجھ سے ہر بلا تیری
میں ابھی تک نہیں ٹلا، مجھے کیا
دِلِ نالاں پہ سوگ طاری ہے
اک ہی اپنا تھا مر گیا؟ مجھے کیا
ارے چین ایسا کہ ناراض کرے رب کو کیسی راحت
نگا ہ زن تیری راحت، بدن تیری محبت ہے
عجب پالے محبت تو عشق بس نام کی سنگت
عجب عورت تیری بول چاری دیکھی میں نے جگ بھر میں
وصال مرد اچھا نہ ، کر ے کیوں گفتگو الفت
وصال مرد زن گر ہے محبت تو سنو یہ پھر
ملے نہ گر بدن تو رکھے کیوں الفت کی جا نفرت
ہے قال تم فراق تم سے جائے جاں میری ہائے
پریشاں گر ہو محبوب دور نہ کرتے اس کی تم زحمت
محبت خاکؔ طیبؔ یہ پیش خدمت جاں ہو چاہ کے
پیش محبو ب سب کچھ تم کرو گر نہ، نہیں الفت
اُن کی راہوں میں دُعاؤں کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِن کے بَچوں کو دِیا نام، سَہارا، مَنزِل،
اَپنی قِسمَت کی بھی ہَم نے تو گِرانی رَکھ دِی ۔
ہَم دِیّارِ غَیر میں تَنہا ہی لَڑتے رَہ گئے،
اور اُنہوں نے فَقط مَطلَب کی کَہانی رَکھ دِی ۔
گھر بَنایا تھا جِسے سَایۂ اِخلاص سَمجھ،
وَقت آیا تو اُسی گھر نے وِیرانی رَکھ دِی ۔
دَرد اِتنا ہے کہ اَب شِکوَہ بھی مُشکِل لَگتا،
زِندگی نے لَبِ اِظہار پہ پانی رَکھ دِی ۔
مَظہرؔ اِحسان کا بَدلہ نہ سَہی، یاد ہی رَکھ،
کُچھ تو رِشتوں نے وَفادارِی کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِنہیں اَپنا سَمجھا، وُہی یہ کَہہ کے ہَنس دِیے،
حاجی صَاب لُوسدِیاں رَہنا اِیں
بَس اِتنی مِہربانی رَکھ دِی
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا






