تیری جھکتی نظر دیکھتے رہ گئے
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillتو جدھر تھا ادھر دیکھتے رہ گئے
چاند تارے سحر دیکھتے رہ گئے
پانے والوں نے پا لی حسیں منزلیں
آپ زاد سفر دیکھتے رہ گئے
وہ ہوا کے بگولوں کا اک بھیس تھا
پھول اٹھتے ابر دیکھتے رہ گئے
سو گئے ہم گلیم فلک اوڑھ کر
نازنیں اپنا گھر دیکھتے رہ گئے
حسن کردار کے ان گنت زاویئے
تیری جھکتی نظر دیکھتے رہ گئے
آج دست مسیحا سے پا کر شفا
لفظ اپنا اثر دیکھتے رہ گئے
وقت نے تاج پاؤں تلے رکھ لیا
بادشاہ اپنے سر دیکھتے رہ گئے
میرے اظہار کا مرحلہ کٹ گیا
آپ زیر و زبر دیکھتے رہ گئے
ذوق پرواز سے ناشناسا رہے
وہ پرندے جو پر دیکھتے رہ گئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






