تیری مُسکراہت بھی میرے دل کو پِگلا دیتی ہے
Poet: مستجاب رضا By: مستجاب رضا, Tobatek Singhتیری مُسکراہت بھی میرے دل کو پِگلا دیتی ہے
تیری ظالم سی نظر مجھ کو ہر طرح سے ہلا دیتی ہے
تیرے وہ کُھلے گلے بالوں کا منظر میری محبت کو
پھر سے میرے عشق کو نشے کا جام پِلا دیتی ہے
سوکھ جائے جو پانی کی کمی سے پھول اُن کو
تیرے آنے کی مہک پھولوں کو کِھلا دیتی ہے
ہو چُکا ہوں میں آندھا اب اس دو دن کی زندگی سے
تیرے آنے کی آہت مجھ کو تیرا نقش دکھلا دیتی ہے
نہیں ہے میرا دل اتنا پاکیزہ میں کیسے کہوں
اللہ کی ذات پھر بھی مجھ کو تجھ سے ملا دیتی ہے
تیری نمازوں میں جو مُستجاب ہو جاتی ہے دعا
تیری وہ دعا میری روح کو جھولا دیتی ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






