تیری یاد اب بہت آنے لگی ہے
Poet: Muhammad Usman By: Rana Muhammad Usman, lahoreتیری یاد بہت اب آنے لگی ہے
اک جان ہے وہ بھی اب جانے لگی ہے
تنہا تنہا اب رہنے لگا ہوں
تنہائی بہت تڑپانے لگی ہے
اس حال میں جینا مشکل ہے
ہر سانس تجھے بُلانے لگی ہے
تیری یادوں کی جو خوشبو ہے
میری سانسوں کو مہکانے لگی ہے
کوئی لمحہ تیری یاد سے خالی نہیں ہے
اب تو یہ آنکھیں بھی آنسو بہانے لگی ہیں
اگر لوٹ آنا ہے تو لوٹ آؤ
اس دل سے اب دھڑکن بھی جانے لگی ہے
تیری یاد بہت اب آنے لگی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






