تیری یاد سے وابستہ کچھ ساعتیں ہیں ایسی
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillتیری یاد سے وابستہ
کچھ ساعتیں ہیں ایسی
کہ زمانے بھر کی خوشیاں
ان پر نثار کر دوں
ان ساعتوں کو میں نے
رکھا ہے جان اب تک
اپنا جہاں بنا کے
تیرا گماں بنا کے
تکمیل دل سمجھ کر
ترسیل جاں بنا کے
انہی ساعتوں کے صدقے
میرے دن گزر رہے ہیں
انہیں بھولنا بھی چاہوں
تو نہیں بھلا سکوں گا
انہیں روح کے ورق سے
میں نہیں مٹا سکوں گا
یہ عنایتیں ہیں انکی
میری زندگی پہ جاناں
کہ فریب غم جاں کو
میں نے ہنس کے سہنا سیکھا
دوراں کی شورشوں میں
چپ چاپ رہنا سیکھا
بن کر خاموش آنسو
پلکوں سے بہنا سیکھا
انہیں کیسے میں بھلا دوں
کہ میری حیات بھر کی
ہیںریاضتیں بھی ان میں
میری خواہشیں بھی ان
میری چاتیں بھی ان میں
میری زندگی بھی ان سے
میری بندگی بھی ان سے
میرا لفظ لفظ ان کا
میری شاعری بھی ان سے
تیری یاد سے وابستہ
کچھ ساعتیں ہیں ایسی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






