تیرے عشق میں جلنا آ گیا ہے
Poet: Usman Tarar By: Usman Tarar, Hafizabadتیرے عشق میں جلنا آ گیا ہے
ہمیں کانٹوں پہ چلنا آ گیا ہے
مکتبِ عشق نے سکھا دیے آداب عشق
ہمیں آپ سے تم کرنا آ گیا ہے
آغاز محبت میں جذبات اور تھے
اب رسوائیوں سے ڈرنا آ گیا ہے
جب سے تیرے آنچل کو چھوا ہے
رنگ خاکوں میں بھرنا آ گیا ہے
ہماری آنکھیں فریب کھا رہی ہیں
یا پھر تم کو سنورنا آ گیا ہے
تمہاری جانب ہی سفر کر رہے ہیں ہم
ہمیں فاصلوں سے لڑنا آ گیا ہے
چھوڑ دی ہے ہم نے اناء پرستی عثمان
وقت کے ساتھ ڈھلنا آ گیا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






