اس کو یقیں دلاتے ہوئے عمر گزر گئی
Poet: Usman Tarar By: Usman Tarar, Hafizabadکناروں کو ملاتے ہوئے عمر گزر گئی
تعلقات کو نبھاتے ہوئے عمر گزر گئی
بچوں کے سامنے رسوائی کے خوف سے
آنسوؤں کو چھپاتے ہوئے عمر گزر گئی
پیا گھر سدھارنے کی شرائط بہت تھیں
جہیز کو بناتے ہوئے عمر گزر گئی
اک روز یاد آئی تھیں ناکام حسرتیں
پھر سلگتے سلگاتے ہوئے عمر گزر گئی
مصلحت کی بھینٹ چڑھے اپنے حقوق بھی
بس ہمدردیاں جتاتے ہوئے عمر گزر گئی
عثمان اپنے فیصلے پہ پچھتاوا نہیں مجھے
اس کو یقیں دلاتے ہوئے عمر گزر گئی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







