تیرے لبوں پر تاج محل کی باتیں ہیں
Poet: zee By: Muhammad Zubair, Multanقاتل کے قصے، مقتل کی باتیں ہیں
آج کی محفل میں بھی کل کی باتیں ہیں
دیوانوں پر اک اک لمحہ بھاری ہے
ہوش کی باتیں کتنی ہلکی باتیں ہیں
اپنی لہتی دستی پر میں شرمندہ ہوں
تیرے لبوں پر تاج محل کی باتیں ہیں
یہ فصیلوں میں گھرا راج محل کس کا ہے
یہ پراسرار در و بام، انوکھے فانوس
بربط و چنگ و خم جام لئے دست بدست
منتظر کس کے ہیں یہ زہرہ جبینوں کا جلوس
میں شہنشاہ زمن ہوں کسے معلوم نہیں
ہر طرف موجب تعمیل ہیں فرمان میرے
میرے ادنیٰ سے اشارے پہ ہیں سب رقص کناں
یہ سپاہی، یہ حسینائیں، یہ دربان میرے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






