تیز و تند ہواؤں کے رخ بھی پھیرنے ہونگے
Poet: ناصر دھامسکر By: Nasir Ibrahim Dhamaskar, Ratnagiriتیز و تند ہواؤں کے رخ بھی پھیرنے ہونگے
طوفاں سے لڑنے کے حوصلے رکھنے ہونگے
راستے دئے طلاطم خیز سمندروں نے بھی
دلوں میں ایسے ایمانی جزبات بھرنے ہونگے
عشق دین ہی اصل سرمائہ ہے اس ملت کا
زیست میں یہ احساسات پھر جگانے ہونگے
ہو گیا رابطہ سہل مریخ کے سیارے سے بھی
انساں کی جدوجہد کے اب کیا کہنے ہونگے
بہت ہی محدود ہے بھونڈی سوج کی پرواز
شاہیں جیسی اڑان کے شوق دکھانے ہونگے
شہرۃ تھا عالم میں ناصر اس اعلی ظرفی کا
راستے سے کم مائیگی کے روڑے ہٹانے ہونگے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






