قلب پریشاں ہر وقت ہونے کو ہے
Poet: ناصر دھامسکر By: Nasir Ibrahim Dhamaskar, Ratnagiriقلب پریشاں ہر وقت ہونے کو ہے
موسم خزاں چمن میں آنے کو ہے
بنانا ہے نشیمن کو نہایت پرکشش
بھلے ہی بجلیاں لاکھ کڑکنے کو ہے
فریفتہ ہے دل کلیوں کی مسکان پر
پھول تو بس اب مرجھانے کو ہے
ہے مقصود امتحاں باغباں کا یہاں
لے رہی لپیٹے میں آگ آشیانے کو ہے
ہوچکا پارہ پارہ یگانگی کا درس
وقت کٹھن آپڑا یہ آزمانے کو ہے
درد ہے ناصر شیرازہ بکھرنے کا بھی
صدا بازگشت کی پھر گونجنے کو ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






