جانے اس دل کا حال کیا ہو گا
Poet: حدیقہ کیانی By: محمد رضوان, Islamabadجانے اس دل کا حال کیا ہو گا
تیرا وعدہ اگر وفا ہو گا
حشر میں میرا حشر کیا ہو گا
تیری جانب اگر خدا ہو گا
بے سبب تو نہیں تڑپ دل کی
تیرے رخ سے نقاب اٹھا ہو گا
ہم نا باز آ ۓ گے محبّت سے
جان جا ۓ گی اور کیا ہو گا
تیری بیداد میری خاموشی
حشر میں اس کا فیصلہ ہو گا
تیرا غم یہ سمجھ کے سہتا ہو
میری قسمت ہی میں لکھا ہو گا
تیری مہندی میں اتنا رنگ کہاں
خون عاشق ملا ہوا ہو گا
ان کے درکا ہے یہ نشان عالم
در پہ میلہ سا ایک لگا ہو گا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






