جان جانے کو ہے اور رقص میں پروانہ ہے
Poet: ساغر خیامی By: نعمان علی, Multanجان جانے کو ہے اور رقص میں پروانہ ہے
کتنا رنگین محبت ترا افسانہ ہے
یہ تو دیکھا کہ مرے ہاتھ میں پیمانہ ہے
یہ نہ دیکھا کہ غم عشق کو سمجھانا ہے
اتنا نزدیک ہوئے ترک تعلق کی قسم
جو کہانی ہے مری آپ کا افسانہ ہے
ہم نہیں وہ کہ بھلا دیں ترے احسان و کرم
اک عنایت ترا خوابوں میں چلا آنا ہے
ایک محشر سے نہیں کم ترا آنا لیکن
اک قیامت ترا پہلو سے چلا جانا ہے
خم و مینا مے و مستی یہ گلابی آنکھیں
کتنا پر کیف مرے ہجر کا افسانہ ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






