ملتے جلتے ہیں یہاں لوگ ضرورت کے لئے
Poet: اظہر نواز By: ہارون فضیل, Rawalpindiملتے جلتے ہیں یہاں لوگ ضرورت کے لئے
ہم ترے شہر میں آئے ہیں محبت کے لئے
وہ بھی آخر تری تعریف میں ہی خرچ ہوا
میں نے جو وقت نکالا تھا شکایت کے لئے
میں ستارہ ہوں مگر تیز نہیں چمکوں گا
دیکھنے والے کی آنکھوں کی سہولت کے لئے
تم کو بتلاؤں کہ دن بھر وہ مرے ساتھ رہا
ہاں وہی شخص جو مشہور ہے عجلت کے لئے
سر جھکائے ہوئے خاموش جو تم بیٹھے ہو
اتنا کافی ہے مرے دوست ندامت کے لئے
وہ بھی دن آئے کہ دہلیز پہ آ کر اظہرؔ
پاؤں رکتے ہیں مرے تیری اجازت کے لئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






