جاگتی آنکھوں سے دیکھے ہوئے خوابوں کیطرح
Poet: Sajid Awan By: Sajid Manzoor Awan, Islamabadمجھ سے وہ کہتا تھا کہ محبت کا سہارا بنتا
خود بھی تو ساحل تھا تمناؤں کا کنارا بنتا
جاگتی آنکھوں سے دیکھے ہوئے خوابوں کیطرح
تُو کسی مصور کے تخیل سے بھی پیار بنتا
جھیل آنکھیں، چاند چہرا، غم کے ماروں کے لیے
ہجر کے موسم میں بھی بہاروں کا نظارہ بنتا
سایہ ہوتا اگر تیری زلفوں کا اگر خُدا کی قسم
تو میری تحریر کا ہر حرف فن پارہ بنتا
کاش اتنی شدت ہوتی میری چاہت میں ساجد
مٹتا جنوں میں پھر مٹنے کے لیے دوبارہ بنتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






