جب حجابِ حسیں رخ سے وہ ہٹا دیتے ہیں
Poet: By: AB shahzad, Mailsiجب حجابِ حسیں رخ سے وہ ہٹا دیتے ہیں
چاند چہرے وہ حسینوں کے جھکا دیتے ہیں
زیست کے نہج سے ہے خوب ہی واقف ساجن
وہ ادھر کی ہی ادھر بات گھما دیتے ہیّں
کتنے اچھے ہیں خیالات مرے سجنا کے
جو جفاؤں کے ہی بدلے میں وفا دیتے ہیں
میری بھی زیست لگے عمر ہزاروں ہو برس
بس یہی ہم کو وہ ہر وقت دعا دیتے ہیں
دیتا رہتا ہوں میں اکثر ہی اسے تو دھوکے
وہ کسی طور بھی ہم کو نہ دغا دیتے ہیں
پہنچ جاتا ہوں خیالوں کی میں جب دنیا میں
خواب آتے تو بہت ہیں وہ جگا دیتے ہیں
دیکھے اک بار جو بھی پیار بھری نظروں سے
رنج و غم کرب سبھی اپنے تو بھلا دیتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






