جب رخ سے نقاب ان کے دھیرے سے سرکتی ہے
Poet: Fazlul Hasan By: F.H.SIDDIQUI, Lucknow جب رخ سے نقاب ان کے دھیرے سے سرکتی ہے
کیا روپ نکلتا ہے کیا شان جھلکتی ہے
وہ شعلہ بدن تو بس اک بار ہی گذرا تھا
اب تک مرے سینے میں اک آگ دہکتی ہے
اٹھنے کو وہ گھونگھٹ ہے ۔آئے گی قیامت کیا
کیوں جسم لرزتا ہے کیوں آنکھ پھڑکتی ہے
دولت کے اجالوں میں کیوں جام چھلکتے ہیں
غربت کے اندھیروں میں جب بھوک سسکتی ہے
وہ خواب سے اٹھتے ہیں لیتے ہوئے انگڑائی
یا باد سحر سے کوئی شاخ لچکتی ہے
غلطی ہو سیاست کی یا شیخ و برہمن کی
شعلے نہیں تھمتے ہیں جب آگ بھڑکتی ہے
تعریف حسینوں کی کرنا مری فطرت ہے
پر ان کو حسن میری یہ بات کھٹکتی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






