جب سے آ کر مجھے وہ ستاتا نہیں
Poet: توقیر اعجاز دیپک By: زرویٰ بتول, Bangkokجب سے آ کر مجھے وہ ستاتا نہیں
چین تب سے مرے دل کو آتا نہیں
کروٹیں ہی بدلنے میں کٹتی ہے شب
جب سے وہ بازوؤں میں سلاتا نہیں
ذکر تجھ سے فقط اس کا ہے چھڑ گیا
ورنہ وہ مجھ کو اب یاد آتا نہیں
اب تو الزام آوارگی کا نہ دو
اب تو میں اس کی گلیوں میں جاتا نہیں
بھول بچپن کی مت کہہ مرے عشق کو
عشق کا عمر سے کوئی ناتا نہیں
روٹھا روٹھا سا رہتا ہے کس سے بھلا
جب تجھے کوئی آ کے مناتا نہیں
پیچھے مڑ مڑ کے دیپک ہے کیا دیکھتا
اب تجھے کوئی واپس بلاتا نہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






