جب سے تمہاری آنکھوں میں محبت دیکھی ہے
Poet: A F By: A F, SAUDIA ARABIAتمہیں ہر پل خوشی دیتے رہے
تم سے پیار کرتے ہیں اپنے پیار کی گواہی دیتے رہے
تم ہم سے روٹھتے رہے ہم تمہیں مناتے رہے
ہم تو ہر پل بس تیرے لیے خوشی چاہتے رہے
جب کبھی بھی ہمیں تمہاری ضرورت ہوتی تھی
سب سے زیادہ اسی وقت تو ہم خود کو تنہا پاتے رہے
تھے تم سے ویسے تو ہزاروں گلے ہزاروں شکوے پر
جب سے تمہاری آنکھوں میں محبت دیکھی ہیں خود کے لے
تب سے ہم اپنے ہر گلے ہر شکوے کو غلط ٹہراتے رہے
ہم تو خود کو ہی مناتے رہے
سمجھاتے رہے کہ شاید تمہیں اقرار محبت کا طریقہ نہیں آتا
ہم تو تمہں وہ طریقہ بھی سکھاتے رہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






