جب محفلِ احباب سجی یاد کرو گے
Poet: ورد بزمی By: ورد بزمی, اسلام آبادجب محفلِ احباب سجی یاد کرو گے
اک تُم ہی نہیں مجھ کو سبھی یاد کرو گے
کر جائیں گے ہم کُوچ تری دنیا سے لیکن
جو ہم کو نہ مل پائی خوشی یاد کرو گے
ہر بار جو کہتے ہُوئے رک رک سے گئے ہم
جو بات ادھوری ہی رہی یاد کرو گے
شبنم کو گلابوں پہ چمکتا ہُوا پا کر
ہنستی ہُوئی پلکوں کی نمی یاد کرو گے
دیکھے جو فلک پر کبھی ٹھہرے ہُوئے بادل
برسات نگاہوں میں رُکی یاد کرو گے
پھول ادھ کھلے گر تم کو نظر آئے کبھی تو
مغموم سے لہجے کی ہنسی یاد کرو گے
ایثار خلوص اور وفا اور دعا بھی
کیا کیا دِیے جاتے ہیں کبھی یاد کرو گے
جب جب بھی چلِیں تیز ہوائیں سرِ گلشن
تُم وَرۡد کی آشفتہ سری یاد کرو گے
وَرۡدبزمی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






