آیتِ جاں سے درِ دل کو اُجالے رکھوں
Poet: ورد بزمی By: ورد بزمی, اسلام آبادآیتِ جاں سے درِ دل کو اُجالے رکھوں
مثلِ تعویذ گلے میں اُسے ڈالے رکھوں
اُسکے آنچل کی مہک چھونے لگی میرا بدن
اپنی بانہوں میں ہواؤں کو سنبھالے رکھوں
آ! مرے چاند نہ کھا جائے ستاروں کی نظر
میں ترے گِرد مناجات کے ہالے رکھوں
گو ! میں خود زخم سراپا ہوں جو تُو آئے تو
تیرے زخموں پہ لبِ وصل کے گالے رکھوں
جب تلک سانس قلم لیتا رہے لکھتا رہوں
یونہی غزلوں میں ترے حسن کو ڈھالے رکھوں
پہلے دن تُونے جب اقرار کیا تھا جاناں
اپنی راتوں میں اُسی دن کے حوالے رکھوں
رنگ و خوشبو سے سجانا ہے ہر اک رستے کو
وَرد رکھوں تری راہوں میں کہ لالے رکھوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






