جب وہ امبر پے گاتا ھے
Poet: rubina biswas By: rubina biswas, kARACHIمحبت کی وادیوں سے ستارا جھلملاتا ھے
پیار سے ستار جب وہ باجاتا ھے
فصاں مں جگنوں کا رقص ھوتا ھے
سن کے موم سا وجود پھگلنے لگتا ھے
وہ پری چہرہ بادلوں سے موتیوں کو بھر کر لاتا ھے
رشم کے گالوں کو ھوا سے اڑاتا ھے
اسکے پیار کی بارش اسی ھے ھر کوی گھائل ھو جاتا ھے
بوند بوند ستاروں کی لڑی سی میٹھے لفظوں کی اٰسماں پے چم چم چمک
پھولوں سے خوشبوں کی مہک اس محبت کو کیا کہوں
چاندنی کہو یہ چاند کہون سماں گیا کون جانے
اس سمندر کی
چھپی گہرائی میں
جب وہ امبر پے گاتا ھے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






