جب تیری بے رخی ستاتی ہے
Poet: wasim ahmad moghal By: wasim ahmad moghal, lahoreجب تیری بے رُخی۔۔۔۔۔ ستاتی ہے
خود ہمیں بھی خودی۔۔۔۔ ستاتی ہے
آگ بن کر ہمارے۔۔۔ ہونٹوں پر
ساقیا تَشنگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ستاتی ہے
حسرتِ دید بھی۔۔۔۔ قیامت ہے
ہر قدم پر کھڑی۔۔۔۔۔ ستاتی ہے
جس کوہم دل لگی۔۔۔ سمجھتے رہے
بن کے وہ بے کلی۔۔۔۔ ستاتی ہے
دھول دشت و جبل میں اُڑتی ہے
جب ہمیں عاشقی۔۔۔۔ ستاتی ہے
پاؤں پڑتے ہیں آبلے۔۔۔۔ آکر
جب بھی آوارگی۔۔۔۔ ستاتی ہے
چین پڑتا نہیں۔۔۔۔۔ کسی پہلو
یاد جب بھی تیری۔۔۔۔ ستاتی ہے
دن بھی کٹ جائے گرکسی صورت
رات کو چاندنی ۔۔۔۔۔۔ستاتی ہے
یوں تو محرومیاں بہت۔۔ سی تھیں
ہم کو تیری کمی۔۔۔۔۔۔ ستاتی ہے
موت سے ہیں وابَستہ۔۔۔ اُمیدیں
اِس قدر زندگی۔۔۔۔۔۔ ستاتی ہے
تنگ کرتی تھی تیرگی۔۔۔۔ پہلے
اب نئی روشنی۔۔۔۔۔۔ ستاتی ہے
لوگ کہتے ہیں ہم کو۔۔۔۔ دیوانہ
اور ہمیں آگہی۔۔۔۔۔ ستاتی ہے
جس گھڑی وہ جدا ہوئے مجھ سے
آج تک وہ گھڑی۔۔۔ ستاتی ہے
پنکھڑی جیسے اُن لبوں کی وسیم
گفتگو شبنمی۔۔۔۔۔ ستاتی ہے
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






