جب وہ مجھ کو دیکھے (گیت)
Poet: N A D E E M M U R A D By: N A D E E M M U R A D, UMTATA RSAجب وہ مجھ کو دیکھے
بانہیں یوں پھیلائے
جیسے کوئی کونج
پنکھ اپنے بکھرائے
جیسے کوئی مور
بے خود رقص دکھائے
جب وہ مجھ کو دیکھے
ایسے گیت سُنائے
جیسے کوئے کوئل
بن میں شور مچائے
جیسے پیڑ پہ بلبل
بیٹھی نغمہ گائے
جب وہ مجھ کو دیکھے
کچھ ایسے شرمائے
جیسے رات کی رانی
پھر غنچہ بن جائے
جیسے چھم چھم بارش
رُک جائے تھم جائے
جب وہ مجھ کو دیکھے
ایسی ہنسی بکھرائے
جیسے کوئی جادو
سب کے ہوش اڑائے
جیسے کوئی پائل
سُر اپنے بکھرائے
جب وہ مجھ کو دیکھے
دھڑکن رک رک جائے
دہکیں عارض اتنا
ان پہ سرخی چھائے
آنسو پینا چاہے
پر کاجل بہہ جائے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






