ہواؤ ! چھو لو میری مہک کو
Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore,Pakistanسخن کے غنچے کھلا رہی ہوں
بہار بن کے میں چھا رہی ہوں
گلاب لے کر حسیں غزل کے
میں آج محفل میں آ رہی ہوں
حسین لفظوں کی تتلیوں کو
سخن کی صورت اڑا رہی ہوں
میں جگنو بن کے چمک رہی ہوں
میں چاند سی جگمگا رہی ہوں
ہواؤ ! چھو لو مری مہک کو
میں اپنی سوچیں لٹا رہی ہوں
یہ گیت میرے ، یہ میری غزلیں
انھیں میں سب کچھ سنا رہی ہوں
پکارا تم نے تو نام میرا
میں کس لیے مسکرا رہی ہوں
لو دیکھ لو آنکھ بھر کے مجھ کو
رقیب چلمن ہٹا رہی ہوں
سمجھ لو کیوں دیکھ کر تمھیں یوں
میں اپنی پلکیں جھکا رہی ہوں
تمھارے خوابوں کی منتظر ہوں
جبھی تو خود کو سلا رہی ہوں
نوٹ:- اس ویب کی ایک معزز و محترم شاعرہ کی ایک غزل کی تعریف میں انھیں کی زمین میں یہ غزل تحریر کی تھی جو شاید ان کی نظر سے اب تک نہیں گزر پائی۔۔۔۔۔۔۔۔ سوچا اسے اپنے سب پڑھنے والوں کے لیے الگ سے آن لائن کر دوں ۔ سو ذرا سی ترمیم و اضافے کے ساتھ اسے آپ سب دوستوں کی خدمت میں پیش کر دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شکریہ
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






