جب گرے کوئی تو اٹھانے والا کوئی نہ ہو
Poet: Tasleem Ahmed Dani By: Tasleem Ahmed Dani, Islamabadجب گرے کوئی تو اٹھانے والا کوئی نہ ہو
مشکل میں پیار سے گلے لگانے والا کوئی نہ ہو
چاہتوں کی بھیڑ مغرور کر دیتی ہے انساں کو
زندگی بدمزہ ہو جائے جب ستانے والا کوئی نہ ہو
اب آئی سمجھ میں بات کہ کیوں زخم دیتے ہیں وہ
دردکااحساس کب ہوتا جب درد لگانے والا کوئی نہ ہو
اس سے پوچھو کیا حالت ہوتی ہے دل کی جب
اپنوں کی بھیڑ میں مرہم لگانے والا کوئی نہ ہو
جس کے منہ پھیرلینے سے ہلچل مچ جائے اسے چھوڑو
اس کے دل کا حال پوچھو جسے منانے والا کوئی نہ ہو
اس کو چھوڑو جسے کانٹا چبھے تو زمانا چیخ اٹھے
اس کا کیا ہو گا دانی جس کے مرنے پہ آنسوبہانے والا کوئی نہ ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






