ہمارے پاس آؤ جانِ جاناں
Poet: UA By: UA, Lahoreہمارے پاس آؤ جانِ جاناں
ہمیں اپنا بناؤ جانِ جاناں
تمہاری بےرَخی سہی نہ جائے
ہمیں تَم نہ ستاؤ جانِ جاناں
ہمارا دل تمہارا منتظر ہے
اب چلے بھی آؤ جانِ جاناں
ہمارے دِل کی بات سَن جاؤ
ہمیں اپنی سَناؤ جانِ جاناں
ہمارا دِل بہت نازک ہے جاناں
نہ دل کو یوں دَکھاؤ جانِ جاناں
تمہارے ہجر میں کیسے جیئیں گے
نہ ہم سے دَور جاؤ جانِ جاناں
محبت اِک سراب ہے عظمٰی
ہمیں یہ نہ بتاؤ جانِ جاناں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






